کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا“۔
حدیث نمبر: Q3337-2
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَادِيَ الرَّأْيِ سورة هود آية 27 مَا ظَهَرَ لَنَا أَقْلِعِي سورة هود آية 44 أَمْسِكِي وَفَارَ التَّنُّورُ سورة هود آية 40 نَبَعَ الْمَاءُ ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ : وَجْهُ الْأَرْضِ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : الْجُودِيُّ جَبَلٌ بِالْجَزِيرَةِ دَأْبٌ مِثْلُ حَالٌ .
مولانا داود راز
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ( قرآن مجید کی اسی سورۃ ھود میں ) «بادئ الرأى» کے متعلق کہا کہ وہ چیز ہمارے سامنے ظاہر ہو ۔ «أقلعي» یعنی روک لے ٹھہر جا «وفار التنور» یعنی پانی اس تنور میں سے ابل پڑا اور عکرمہ نے کہا کہ ( «تنور» بمعنی ) سطح زمین کے ہے اور مجاہد نے کہا کہ «الجودي» جزیرہ کا ایک پہاڑ ہے ۔ دجلہ و فرات کے بیچ میں اور سورۃ مومن میں لفظ «دأب» بمعنی حال ہے ۔