کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بیان میں کہ حیض کی ابتداء کس طرح ہوئی۔
حدیث نمبر: Q294
وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ إِلَى قَوْلِهِ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ. [سورة البقرة آية 222] وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : كَانَ أَوَّلُ مَا أُرْسِلَ الْحَيْضُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَحَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ .
مولانا داود راز
اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں: ” اور تجھ سے پوچھتے ہیں حکم حیض کا ، کہہ دے وہ گندگی ہے ۔ سو تم عورتوں سے حیض کی حالت میں الگ رہو ۔ اور نزدیک نہ ہو ان کے جب تک پاک نہ ہو جائیں ۔ ( یعنی ان کے ساتھ جماع نہ کرو ) پھر جب خوب پاک ہو جائیں تو جاؤ ان کے پاس جہاں سے حکم دیا تم کو اللہ نے ( یعنی قبل میں جماع کرو دبر میں نہیں ) بیشک اللہ پسند کرتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور پسند کرتا ہے پاکیزگی ( صفائی و ستھرائی ) حاصل کرنے والوں کو “ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کی تقدیر میں لکھ دیا ہے ۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ سب سے پہلے حیض بنی اسرائیل میں آیا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تمام عورتوں کو شامل ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحيض / حدیث: Q294