کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: کسی ذمی کافر کو ناحق مار ڈالنا کیسا گناہ ہے؟
حدیث نمبر: 3166
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عنه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حسن بن عمرو نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس نے کسی ذمی کو ( ناحق ) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا ۔ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / کتاب الجزیہ والموادعہ / حدیث: 3166
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة