کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اگر وقف کرنے والا مال وقف کو (اپنے قبضہ میں رکھے) دوسرے کے حوالہ نہ کرے تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: Q2756-3
لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْقَفَ ، وَقَالَ : لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ وَلَمْ يَخُصَّ ، إِنْ وَلِيَهُ عُمَرُ ، أَوْ غَيْرُهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ : " أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ ، فَقَالَ : أَفْعَلُ ، فَقَسَمَهَا فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ " .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اس لیے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ( خیبر کی اپنی زمین ) وقف کی اور فرمایا کہ اگر اس میں سے اس کا متولی بھی کھائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ یہاں آپ نے اس کی کوئی تخصیص نہیں کی تھی کہ خود آپ ہی اس کے متولی ہوں گے یا کوئی دوسرا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ میرا خیال ہے کہ تم اپنی زمین ( باغ بیرحاء صدقہ کرنا چاہتے ہو تو ) اپنے عزیزوں کو دے دو ۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں ایسا ہی کروں گا ۔ چنانچہ انہوں نے اپنے عزیزوں اور چچا کے لڑکوں میں بانٹ دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوصايا / حدیث: Q2756-3