کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔
حدیث نمبر: 2742
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا ، قَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ، قَالَ : لَا ، قُلْتُ : فَالشَّطْرُ ، قَالَ : لَا ، قُلْتُ : الثُّلُثُ ، قَالَ : فَالثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ ، وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةُ الَّتِي تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَكَ فَيَنْتَفِعَ بِكَ نَاسٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ابْنَةٌ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا سعد بن ابراہیم سے ‘ ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع میں ) میری عیادت کو تشریف لائے ‘ میں اس وقت مکہ میں تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سر زمین پر موت کو پسند نہیں فرماتے تھے جہاں سے کوئی ہجرت کر چکا ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ ابن عفراء ( سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ) پر رحم فرمائے ۔ “ میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنے سارے مال و دولت کی وصیت کر دوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نہیں “ میں نے پوچھا پھر آدھے کی کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی یہی فرمایا ” نہیں “ میں نے پوچھا پھر تہائی کی کر دوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہائی کی کر سکتے ہو اور یہ بھی بہت ہے ‘ اگر تم اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ‘ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب تم اپنی کوئی چیز ( اللہ کے لیے خرچ کرو گے ) تو وہ خیرات ہے ‘ یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ( وہ بھی خیرات ہے ) اور ( ابھی وصیت کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ) ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء دے اور اس کے بعد تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو اور دوسرے بہت سے لوگ ( اسلام کے مخالف ) نقصان اٹھائیں ۔ اس وقت سعد رضی اللہ عنہ کی صرف ایک بیٹی تھی ۔