حدیث نمبر: Q2625
أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهِيَ عُمْرَى جَعَلْتُهَا لَهُ اسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا جَعَلَكُمْ عُمَّارًا .
مولانا داود راز
´( اگر کسی نے کہا کہ )` میں نے عمر بھر کے لیے تمہیں یہ مکان دے دیا تو اسے عمریٰ کہتے ہیں ( مطلب یہ ہے کہ اس کی عمر بھر کے لیے ) مکان میں نے اس کی ملکیت میں دے دیا ۔ قرآنی لفظ «استعمركم فيها» کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے تمہیں زمین میں بسایا ۔
حدیث نمبر: 2625
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَى أَنَّهَا لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، ان سے شیبان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ کے متعلق فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کا ہو جاتا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہو ۔
حدیث نمبر: 2626
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " . وَقَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے نضر بن انس نے بیان کیا ، ان سے بشیر بن نہیک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” عمریٰ جائز ہے ۔ “ اور عطاء نے کہا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا ۔