کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بیان میں کہ صرف ایک مرتبہ بدن پر پانی ڈال کر اگر غسل کیا جائے تو کافی ہو گا۔
حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنِ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَتْ مَيْمُونَةُ : " وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً لِلْغُسْلِ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ مَذَاكِيرَهُ ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ ، ثُمَّ تَحَوَّلَ مِنْ مَكَانِهِ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے ، انہوں نے کریب سے ، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ، آپ نے فرمایا کہ` ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دو مرتبہ یا تین مرتبہ دھوئے ۔ پھر پانی اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر اپنی شرمگاہ کو دھویا ۔ پھر زمین پر ہاتھ رگڑا ۔ اس کے بعد کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا ۔ پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہا لیا اور اپنی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھوئے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الغسل / حدیث: 257
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة