کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: تقاضا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2425
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : "كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَرَاهِمُ ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ ، فَقَالَ : لَا أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ ، فَقُلْتُ : لَا ، وَاللَّهِ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ ، ثُمَّ يَبْعَثَكَ ، قَالَ : فَدَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ ، ثُمَّ أُبْعَثَ ، فَأُوتَى مَالًا وَوَلَدًا ، ثُمَّ أَقْضِيَكَ ، فَنَزَلَتْ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا سورة مريم آية 77 الْآيَةَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہب بن جریر بن حازم نے بیان کیا ، انہیں شعبہ نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابوالضحیٰ نے ، انہیں مسروق نے ، اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں جاہلیت کے زمانہ میں لوہے کا کام کرتا تھا اور عاص بن وائل ( کافر ) پر میرے کچھ روپے قرض تھے ۔ میں اس کے پاس تقاضا کرنے گیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ جب تک تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض ادا نہیں کروں گا ۔ میں نے کہا ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم ! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کبھی نہیں کر سکتا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مارے اور پھر تم کو اٹھائے ۔ وہ کہنے لگا کہ پھر مجھ سے بھی تقاضا نہ کر ۔ میں جب مر کے دوبارہ زندہ ہوں گا تو مجھے ( دوسری زندگی میں ) مال اور اولاد دی جائے گی تو تمہارا قرض بھی ادا کر دوں گا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا‏» ” تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دی جائے گی ۔ “ آخر آیت تک ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الخصومات / حدیث: 2425
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة