فہرستِ ابواب — صحيح البخاري

بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الإِشْخَاصِ وَالْخُصُومَةِ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُودِ:

باب: قرض دار کو پکڑ کر لے جانا اور مسلمان اور یہودی میں جھگڑا ہونے کا بیان۔

حدیث 2410–2413

بَابُ مَنْ رَدَّ أَمْرَ السَّفِيهِ وَالضَّعِيفِ الْعَقْلِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَجَرَ عَلَيْهِ الإِمَامُ:

باب: ایک شخص نادان یا کم عقل ہو گو حاکم اس پر پابندی نہ لگائے مگر اس کا کیا ہوا معاملہ رد کیا جائے گا۔

حدیث 2414–2414

بَابُ مَنْ بَاعَ عَلَى الضَّعِيفِ وَنَحْوِهِ:

باب: اور اگر کسی نے کسی کم عقل کی کوئی چیز بیچ کر اس کی قیمت اسے دے دی۔

حدیث 2414–2415

بَابُ كَلاَمِ الْخُصُومِ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍ:

باب: مدعی یا مدعی علیہ ایک دوسرے کی نسبت جو کہیں۔

حدیث 2416–2419

بَابُ إِخْرَاجِ أَهْلِ الْمَعَاصِي وَالْخُصُومِ مِنَ الْبُيُوتِ بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ:

باب: جب حال معلوم ہو جائے تو مجرموں اور جھگڑے والوں کو گھر سے نکال دینا۔

حدیث 2420–2420

بَابُ دَعْوَى الْوَصِيِّ لِلْمَيِّتِ:

باب: میت کا وصی اس کی طرف سے دعویٰ کر سکتا ہے۔

حدیث 2421–2421

بَابُ التَّوَثُّقِ مِمَّنْ تُخْشَى مَعَرَّتُهُ:

باب: اگر شرارت کا ڈر ہو تو ملزم کا باندھنا درست ہے۔

حدیث 2422–2422

بَابُ الرَّبْطِ وَالْحَبْسِ فِي الْحَرَمِ:

باب: حرم میں کسی کو باندھنا اور قید کرنا۔

حدیث 2423–2423

بَابُ الْمُلاَزَمَةِ:

باب: قرض داروں کے ساتھ رہنے کا بیان۔

حدیث 2424–2424

بَابُ التَّقَاضِي:

باب: تقاضا کرنے کا بیان۔

حدیث 2425–2425

اس باب کی تمام احادیث