حدیث نمبر: Q2401
وَيُذْكَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عُقُوبَتَهُ وَعِرْضَهُ ، قَالَ سُفْيَانُ : عِرْضُهُ يَقُولُ مَطَلْتَنِي وَعُقُوبَتُهُ الْحَبْسُ .
مولانا داود راز
´اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ` ( قرض کے ادا کرنے پر ) قدرت رکھنے کے باوجود ٹال مٹول کرنا ، اس کی سزا اور اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے ۔ سفیان نے کہا کہ عزت کو حلال کرنا یہ ہے کہ قرض خواہ کہے ” تم صرف ٹال مٹول کر رہے ہو “ اور اس کی سزا قید کرنا ہے ۔
حدیث نمبر: 2401
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يَتَقَاضَاهُ ، فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ ، فَقَالَ : " دَعُوهُ ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے سلمہ نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص قرض مانگنے اور سخت تقاضا کرنے لگا ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی گوشمالی کرنی چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو ، حقدار ایسی باتیں کہہ سکتا ہے ۔