کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: باغ میں سے گزرنے کا حق یا کھجور کے درختوں میں پانی پلانے کا حصہ۔
حدیث نمبر: Q2379
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ ، فَلِلْبَائِعِ الْمَمَرُّ وَالسَّقْيُ حَتَّى يَرْفَعَ ، وَكَذَلِكَ رَبُّ الْعَرِيَّةِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر کسی شخص نے پیوندی کرنے کے بعد کھجور کا کوئی درخت بیچا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہوتا ہے ۔ اور اس باغ میں سے گزرنے اور سیراب کرنے کا حق بھی اسے حاصل رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس کا پھل توڑ لیا جائے ۔ صاحب عریہ کو بھی یہ حقوق حاصل ہوں گے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: Q2379
حدیث نمبر: 2379
5 أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " . وَعَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ فِي الْعَبْدِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ پیوندکاری کے بعد اگر کسی شخص نے اپنا کھجور کا درخت بیچا تو ( اس سال کی فصل کا ) پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے ۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے ( کہ پھل بھی خریدار ہی کا ہو گا ) تو یہ صورت الگ ہے ۔ اور اگر کسی شخص نے کوئی مال والا غلام بیچا تو وہ مال بیچنے والے کا ہوتا ہے ۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے تو یہ صورت الگ ہے ۔ یہ حدیث امام مالک سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے اس میں صرف غلام کا ذکر ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: 2379
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2380
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : "رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے نافع نے ، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے سلسلہ میں اس کی رخصت دی تھی کہ اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے بیچا جا سکتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: 2380
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2381
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ ، وَالْمُحَاقَلَةِ ، وَعَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، وَأَنْ لَا تُبَاعَ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے عطاء نے ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ ، محاقلہ ، اور مزابنہ سے منع فرمایا تھا ۔ اسی طرح پھل کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا تھا ، اور یہ کہ میوہ یا غلہ جو درخت پر لگا ہو ، دینار و درہم ہی کے بدلے بیچا جائے ۔ البتہ عرایا کی اجازت دی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: 2381
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2382
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ ، فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ " . شَكَّ دَاوُدُ فِي ذَلِكَ .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں داؤد بن حصین نے ، انہیں ابواحمد کے غلام ابوسفیان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے پانچ وسق سے کم ، یا ( یہ کہا کہ ) پانچ وسق کے اندر اجازت دی ہے اس میں شک داؤد بن حصین کو ہوا ( بیع عریہ کا بیان پیچھے مفصل ہو چکا ہے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: 2382
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي بُشَيْرٌ مِثْلَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ابواسامہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی ، کہا کہ مجھے بنی حارثہ کے غلام بشیر بن یسار نے خبر دی ، ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگے ہوئے کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ، عریہ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی تھی ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے بشیر نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی تھی ۔ ( یہ تعلیق ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کو نہیں پایا ۔ حافظ نے کہا کہ مجھ کو یہ تعلیق موصلاً نہیں ملی ۔ )
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: 2383
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2384
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي بُشَيْرٌ مِثْلَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ابواسامہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی ، کہا کہ مجھے بنی حارثہ کے غلام بشیر بن یسار نے خبر دی ، ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگے ہوئے کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ، عریہ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی تھی ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے بشیر نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی تھی ۔ ( یہ تعلیق ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کو نہیں پایا ۔ حافظ نے کہا کہ مجھ کو یہ تعلیق موصلاً نہیں ملی ۔ )
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: 2384
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة