حدیث نمبر: 2327
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ ، سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، قَالَ : " كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مُزْدَرَعًا ، كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ بِالنَّاحِيَةِ مِنْهَا مُسَمًّى لِسَيِّدِ الْأَرْضِ ، قَالَ : فَمِمَّا يُصَابُ ذَلِكَ وَتَسْلَمُ الْأَرْضُ ، وَمِمَّا يُصَابُ الْأَرْضُ وَيَسْلَمُ ذَلِكَ ، فَنُهِينَا وَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ فَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی ، انہیں حنظلہ بن قیس انصاری نے ، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ` مدینہ میں ہمارے پاس کھیت دوسروں سے زیادہ تھے ۔ ہم کھیتوں کو اس شرط کے ساتھ دوسروں کو جوتنے اور بونے کے لیے دیا کرتے تھے کہ کھیت کے ایک مقررہ حصے ( کی پیداوار ) مالک زمین لے گا ۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ خاص اسی حصے کی پیداوار ماری جاتی اور سارا کھیت سلامت رہتا ۔ اور بعض دفعہ سارے کھیت کی پیداوار ماری جاتی اور یہ خاص حصہ بچ جاتا ۔ اس لیے ہمیں اس طرح کے معاملہ کرنے سے روک دیا گیا اور سونا اور چاندی کے بدلہ ٹھیکہ دینے کا تو اس وقت رواج ہی نہ تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المزارعة / حدیث: 2327
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة