حدیث نمبر: 227
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا تَحِيضُ فِي الثَّوْبِ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : " تَحُتُّهُ ، ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ وَتَنْضَحُهُ وَتُصَلِّي فِيهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد ابن المثنی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے ہشام کے واسطے سے بیان کیا ، ان سے فاطمہ نے اسماء کے واسطے سے ، وہ کہتی ہیں کہ` ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ! فرمائیے ہم میں سے کسی عورت کو کپڑے میں حیض آ جائے ( تو ) وہ کیا کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ پہلے ) اسے کھرچے ، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے ۔
حدیث نمبر: 228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلَاةَ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي " ، قَالَ : وَقَالَ أَبِي : ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابومعاویہ نے ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے باپ ( عروہ ) کے واسطے سے ، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں ، وہ فرماتی ہیں کہ` ابوحبیش کی بیٹی فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی بیماری ہے ۔ اس لیے میں پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے ۔ تو جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ دن گزر جائیں تو اپنے ( بدن اور کپڑے ) سے خون کو دھو ڈال پھر نماز پڑھ ۔ ہشام کہتے ہیں کہ میرے باپ عروہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( بھی ) فرمایا کہ پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہی ( حیض کا ) وقت پھر آ جائے ۔