کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اپنے (کسی) ساتھی کے قریب پیشاب کرنا اور دیوار کی آڑ لینا۔
حدیث نمبر: 225
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُنِي أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى ، فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَبَالَ ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَجِئْتُهُ ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عثمان ابن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابووائل سے ، وہ حذیفہ سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ` ( ایک مرتبہ ) میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے تھے کہ ایک قوم کی کوڑی پر ( جو ) ایک دیوار کے پیچھے ( تھی ) پہنچے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح ہم تم میں سے کوئی ( شخص ) کھڑا ہوتا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور میں ایک طرف ہٹ گیا ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( پردہ کی غرض سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے قریب کھڑا ہو گیا ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب سے فارغ ہو گئے ۔ ( بوقت ضرورت ایسا بھی کیا جا سکتا ہے ۔ )
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: 225
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة