کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بارے میں کہ پورے سر کا مسح کرنا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: Q185
لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : {وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ}. وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ الْمَرْأَةُ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ تَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهَا. وَسُئِلَ مَالِكٌ أَيُجْزِئُ أَنْ يَمْسَحَ بَعْضَ الرَّأْسِ فَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’ اپنے سروں کا مسح کرو ۔ ‘‘ اور ابن مسیب نے کہا ہے کہ سر کا مسح کرنے میں عورت مرد کی طرح ہے ۔ وہ ( بھی ) اپنے سر کا مسح کرے ۔ امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا کچھ حصہ سر کا مسح کرنا کافی ہے ؟ تو انہوں نے دلیل میں عبداللہ بن زید کی ( یہ ) حدیث پیش کی ، یعنی پورے سر کا مسح کرنا چاہیے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: Q185
حدیث نمبر: 185
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى : أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ : نَعَمْ ، " فَدَعَا بِمَاءٍ ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَهُ فَغَسَلَ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے عمرو بن یحییٰ المازنی سے خبر دی ، وہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ، سے پوچھا کہ` کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح وضو کیا ہے ؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں ! پھر انہوں نے پانی کا برتن منگوایا پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور دو مرتبہ ہاتھ دھوئے ۔ پھر تین مرتبہ کلی کی ، تین بار ناک صاف کی ، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا ۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے ۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا ۔ اس طور پر اپنے ہاتھ ( پہلے ) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے ۔ ( مسح ) سر کے ابتدائی حصے سے شروع کیا ۔ پھر دونوں ہاتھ گدی تک لے جا کر وہیں واپس لائے جہاں سے ( مسح ) شروع کیا تھا ، پھر اپنے پیر دھوئے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: 185
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة