کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جب کتا برتن میں پی لے (تو کیا کرنا چاہیے)۔
حدیث نمبر: 172
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی ، وہ اعرج سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے ( کچھ ) پی لے تو اس کو سات مرتبہ دھو لو ( تو پاک ہو جائے گا ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: 172
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 173
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ ، فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ".
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی ، کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، انہوں نے اپنے باپ سے سنا ، وہ ابوصالح سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا ، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا ۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا ، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا ۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: 173
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 174
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَتِ الْكِلَابُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ .
مولانا داود راز
´احمد بن شبیب نے کہا کہ ہم سے میرے والد نے یونس کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں ، انہوں نے کہا مجھ سے حمزہ بن عبداللہ نے اپنے باپ ( یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) کے واسطے سے بیان کیا ۔ وہ کہتے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن لوگ ان جگہوں پر پانی نہیں چھڑکتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: 174
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 175
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ فَقَتَلَ فَكُلْ ، وَإِذَا أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ ، قُلْتُ : أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ ، قَالَ : فَلَا تَأْكُلْ ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى كَلْبٍ آخَرَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ابن ابی السفر کے واسطے سے بیان کیا ، وہ شعبی سے نقل فرماتے ہیں ، وہ عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کتے کے شکار کے متعلق ) دریافت کیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑے اور وہ شکار کر لے تو ، تو اس ( شکار ) کو کھا اور اگر وہ کتا اس شکار میں سے خود ( کچھ ) کھا لے تو ، تو ( اس کو ) نہ کھائیو ۔ کیونکہ اب اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے ۔ میں نے کہا کہ بعض دفعہ میں ( شکار کے لیے ) اپنے کتے چھوڑتا ہوں ، پھر اس کے ساتھ دوسرے کتے کو بھی پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ پھر مت کھا ۔ کیونکہ تم نے «بسم الله» اپنے کتے پر پڑھی تھی ۔ دوسرے کتے پر نہیں پڑھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: 175
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة