کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جس پانی سے آدمی کے بال دھوئے جائیں اس پانی کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: Q170
وَكَانَ عَطَاءٌ لاَ يَرَى بِهِ بَأْسًا أَنْ يُتَّخَذَ مِنْهَا الْخُيُوطُ وَالْحِبَالُ ، وَسُؤْرِ الْكِلاَبِ وَمَمَرِّهَا فِي الْمَسْجِدِ. وَقَالَ الزُّهْرِيُّ إِذَا وَلَغَ فِي إِنَاءٍ لَيْسَ لَهُ وَضُوءٌ غَيْرُهُ يَتَوَضَّأُ بِهِ. وَقَالَ سُفْيَانُ هَذَا الْفِقْهُ بِعَيْنِهِ ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا} وَهَذَا مَاءٌ ، وَفِي النَّفْسِ مِنْهُ شَيْءٌ ، يَتَوَضَّأُ بِهِ وَيَتَيَمَّمُ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ عطاء بن ابی رباح آدمیوں کے بالوں سے رسیاں اور ڈوریاں بنانے میں کچھ حرج نہیں دیکھتے تھے اور کتوں کے جھوٹے اور ان کے مسجد سے گزرنے کا بیان ۔ زہری کہتے ہیں کہ جب کتا کسی ( پانی کے بھرے ) برتن میں منہ ڈال دے اور اس کے علاوہ وضو کے لیے اور پانی موجود نہ ہو تو اس سے وضو کیا جا سکتا ہے ۔ سفیان کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے سمجھ میں آتا ہے ۔ جب پانی نہ پاؤ تو تیمم کر لو اور کتے کا جھوٹا پانی ( تو ) ہے ۔ ( مگر ) طبیعت اس سے نفرت کرتی ہے ۔ ( بہرحال ) اس سے وضو کر لے ۔ اور ( احتیاطاً ) تیمم بھی کر لے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: Q170
حدیث نمبر: 170
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُبَيْدَةَ : عِنْدَنَا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنَسٍ أَوْ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ أَنَسٍ ، فَقَالَ : " لَأَنْ تَكُونَ عِنْدِي شَعَرَةٌ مِنْهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل نے عاصم کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابن سیرین سے نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ` ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال ( مبارک ) ہیں ، جو ہمیں انس رضی اللہ عنہ سے یا انس رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کی طرف سے ملے ہیں ۔ ( یہ سن کر ) عبیدہ نے کہا کہ اگر میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بال بھی ہو تو وہ میرے لیے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: 170
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَلَقَ رَأْسَهُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَوَّلَ مَنْ أَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی انہوں نے ، کہا ہم سے عباد نے ابن عون کے واسطے سے بیان کیا ۔ وہ ابن سیرین سے ، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع میں ) جب سر کے بال منڈوائے تو سب سے پہلے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال لیے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: 171
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة