کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: کسی شخص کے ہمراہ اس کی طہارت کے لیے پانی لے جانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: Q151
وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالطَّهُورِ وَالْوِسَادِ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم میں جوتوں والے ، پاک پانی والے اور تکیہ والے صاحب نہیں ہیں ؟ ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: Q151
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ هُوَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ تَبِعْتُهُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنَّا مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، وہ عطاء بن ابی میمونہ سے نقل کرتے ہیں ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے نکلتے ، میں اور ایک لڑکا دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جاتے تھے اور ہمارے ساتھ پانی کا ایک برتن ہوتا تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الوضوء / حدیث: 151
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة