حدیث نمبر: Q135-2
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : {إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ}
مولانا داود راز
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ تو ( پہلے وضو کرتے ہوئے ) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو ۔ اور اپنے سروں کا مسح کرو ۔ اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوؤ “ ۔
حدیث نمبر: Q135
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَبَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَرْضَ الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً ، وَتَوَضَّأَ أَيْضًا مَرَّتَيْنِ وَثَلاَثًا ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ثَلاَثٍ ، وَكَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ الإِسْرَافَ فِيهِ وَأَنْ يُجَاوِزُوا فِعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا داود راز
امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو میں ( اعضاء کا دھونا ) ایک ایک مرتبہ فرض ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اعضاء ) دو دو بار ( دھو کر بھی ) وضو کیا ہے اور تین تین بار بھی ۔ ہاں تین مرتبہ سے زیادہ نہیں کیا اور علماء نے وضو میں اسراف ( پانی حد سے زائد استعمال کرنے ) کو مکروہ کہا ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے آگے بڑھ جائیں ۔