کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اگر کوئی زمین کو ٹھیکہ پر لے پھر ٹھیکہ دینے والا یا لینے والا مر جائے۔
حدیث نمبر: Q2285
وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ : لَيْسَ لِأَهْلِهِ أَنْ يُخْرِجُوهُ إِلَى تَمَامِ الْأَجَلِ ، وَقَالَ الْحَكَمُ ، وَالْحَسَنُ ، وَإِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ : تُمْضَى الْإِجَارَةُ إِلَى أَجَلِهَا ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بِالشَّطْرِ ، فَكَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ ، وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ جَدَّدَا الْإِجَارَةَ بَعْدَمَا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
اور ابن سیرین نے کہا کہ زمین والے بغیر مدت پوری ہوئے ٹھیکہ دار کو ( یا اس کے وارثوں کو ) بے دخل نہیں کر سکتے ۔ اور حکم ، حسن اور ایاس بن معاویہ نے کہا اجارہ مدت ختم ہونے تک باقی رہے گا ۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا اجارہ آدھوں آدھ بٹائی پر یہودیوں کو دیا تھا ۔ پھر یہی ٹھیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک رہا ۔ اور عمر رضی اللہ عنہ کے بھی شروع خلافت میں ۔ اور کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نیا ٹھیکہ کیا ہو ۔
حدیث نمبر: 2285
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ ، أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا ، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْمَزَارِعَ كَانَتْ تُكْرَى عَلَى شَيْءٍ سَمَّاهُ نَافِعٌ لَا أَحْفَظُهُ ،
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہودیوں کو ) خیبر کی زمین دے دی تھی کہ اس میں محنت کے ساتھ کاشت کریں اور پیداوار کا آدھا حصہ خود لے لیا کریں ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے یہ بیان کیا کہ زمین کچھ کرایہ پر دی جاتی تھی ۔ نافع نے اس کرایہ کی تعیین بھی کر دی تھی لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہا ۔
حدیث نمبر: 2286
وَأَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ حَدَّثَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ .
مولانا داود راز
´اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا تھا اور عبیداللہ نے نافع سے بیان کیا ، اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ( خیبر کے یہودیوں کے ساتھ وہاں کی زمین کا معاملہ برابر چلتا رہا ) یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جلا وطن کر دیا ۔