حدیث نمبر: Q2260
وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الأَمِينُ سورة القصص آية 26 ، وَالْخَازِنُ الْأَمِينُ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَعْمِلْ مَنْ أَرَادَهُ .
مولانا داود راز
اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ اچھا مزدور جس کو تو رکھے وہ ہے جو زور دار ، امانت دار ہو ، اور امانت دار خزانچی کا ثواب اور اس کا بیان کہ جو شخص حکومت کی درخواست کرے اس کو حاکم نہ بنایا جائے ۔
حدیث نمبر: 2260
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ابوبردہ یزید بن عبداللہ نے کہا کہ میرے دادا ، ابوبردہ عامر نے مجھے خبر دی اور انہیں ان کے باپ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، امانت دار خزانچی جو اس کو حکم دیا جائے ، اس کے مطابق دل کی فراخی کے ساتھ ( صدقہ ادا کر دے ) وہ بھی ایک صدقہ کرنے والوں ہی میں سے ہے ۔
حدیث نمبر: 2261
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ ، فَقُلْتُ : مَا عَمِلْتُ ، أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ ، فَقَالَ : " لَنْ ، أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے قرۃ بن خالد نے کہا کہ مجھ سے حمید بن ہلال نے بیان کیا ، ان سے ابوبردہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ۔ میرے ساتھ ( میرے قبیلہ ) اشعر کے دو مرد اور بھی تھے ۔ میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ دونوں صاحبان حاکم بننے کے طلب گار ہیں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حاکم بننے کا خود خواہشمند ہو ، اسے ہم ہرگز حاکم نہیں بنائیں گے ۔ ( یہاں راوی کو شک ہے کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ «لن» یا لفظ «لا» استعمال فرمایا ۔