کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ماپ مقرر کر کے سلم کرنا۔
حدیث نمبر: 2239
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ فِي الثَّمَرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ ، أَوْ قَالَ : عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، شَكَّ إِسْمَاعِيلُ ، فَقَالَ : " مَنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی ، انہیں ابن ابی نجیح نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن کثیر نے ، انہیں ابومنہال نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ( مدینہ کے ) لوگ پھلوں میں ایک سال یا دو سال کے لیے بیع سلم کرتے تھے ۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ دو سال اور تین سال ( کے لیے کرتے تھے ) شک اسماعیل کو ہوا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بھی کھجور میں بیع سلم کرے ، اسے مقررہ پیمانے یا مقررہ وزن کے ساتھ کرنی چاہئیے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب السلم / حدیث: 2239
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: Q2240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، بِهَذَا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو اسماعیل نے خبر دی ، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا کہ` بیع سلم مقررہ پیمانے اور مقررہ وزن میں ہونی چاہئیے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب السلم / حدیث: Q2240