کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: زمین، مکان، اسباب کا حصہ اگر تقسیم نہ ہوا ہو تو اس کا بیچنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 2214
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، ان سے معمر نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسے مال میں شفعہ کا حق قائم رکھا جو تقسیم نہ ہوا ہو ، لیکن جب اس کی حدود قائم ہو گئی ہوں اور راستہ بھی پھیر دیا گیا ہو تو اب شفعہ کا حق باقی نہیں رہا ۔
حدیث نمبر: Q2215
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بِهَذَا ، وَقَالَ : فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ ، تَابَعَهُ هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : فِي كُلِّ مَالٍ ، رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے اور ان سے عبدالواحد نے اسی طرح بیان کیا ، اور کہا کہ ہر اس چیز میں ( شفعہ ہے ) جو تقسیم نہ ہوئی ہو ۔ اس کی متابعت ہشام نے معمر کے واسطہ سے کی ہے اور عبدالرزاق نے یہ لفظ کہے کہ` ” ہر مال میں “ اس کی روایت عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے کی ہے ۔