کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: کیا کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان کسی اجرت کے بغیر بیچ سکتا ہے؟ اور کیا اس کی مدد یا اس کی خیر خواہی کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: Q2157
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا اسْتَنْصَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْ لَهُ وَرَخَّصَ فِيهِ عَطَاءٌ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی سے خیر خواہی چاہے تو اس سے خیر خواہانہ معاملہ کرنا چاہئے ۔ عطاء رحمہ اللہ نے اس کی اجازت دی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: Q2157
حدیث نمبر: 2157
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، سَمِعْتُ جَرِيرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالسَّمْعِ ، وَالطَّاعَةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے اسماعیل نے ، ان سے قیس نے ، انہوں نے جریر رضی اللہ عنہ سے یہ سنا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شہادت پر کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے اور ( اپنے مقررہ امیر کی بات ) سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2157
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2158
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ ، وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا قَوْلُهُ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ؟ قَالَ : لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا .
مولانا داود راز
´ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو ( ان کو منڈی میں آنے دو ) اور کوئی شہری ، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے ، انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ” کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے “ کا مطلب کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2158
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة