کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اگر بیع کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لینے کے لیے مختار بنایا تو بیع لازم ہو گئی۔
حدیث نمبر: 2112
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، وَكَانَا جَمِيعًا ، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ يَتَبَايَعَا ، وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب دو شخصوں نے خرید و فروخت کی تو جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں ، انہیں ( بیع کو توڑ دینے کا ) اختیار باقی رہتا ہے ۔ یہ اس صورت میں کہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں ، لیکن اگر ایک نے دوسرے کو پسند کرنے کے لیے کہا اور اس شرط پر بیع ہوئی ، اور دونوں نے بیع کا قطعی فیصلہ کر لیا ، تو بیع اسی وقت منعقد ہو جائے گی ۔ اسی طرح اگر دونوں فریق بیع کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ، اور بیع سے کسی فریق نے بھی انکار نہیں کیا ، تو بھی بیع لازم ہو جاتی ہے ۔