کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اگر بائع یا مشتری اختیار کی مدت معین نہ کرے تو بیع جائز ہو گی یا نہیں؟
حدیث نمبر: 2109
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : اخْتَرْ " ، وَرُبَّمَا قَالَ : أَوْ يَكُونُ بَيْعَ خِيَارٍ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، خریدنے والے اور بیچنے والے کو ( بیع توڑ دینے کا ) اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں ۔ یا دونوں میں سے کوئی ایک اپنے دوسرے فریق سے یہ نہ کہہ دے کہ پسند کر لو ۔ کبھی یہ بھی کہا کہ ” یا اختیار کی شرط کے ساتھ بیع ہو ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2109
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة