کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: بڑھئی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2094
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : أَتَى رِجَالٌ إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ امْرَأَةٍ ، قَدْ سَمَّاهَا : سَهْلٌ ، أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ ، إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ ، فَأَمَرَتْهُ يَعْمَلُهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا ، فَأَمَرَ بِهَا ، فَوُضِعَتْ فَجَلَسَ عَلَيْهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ان سے ابوحازم نے بیان کیا کہ` کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے یہاں منبرنبوی کے متعلق پوچھنے آئے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کے یہاں جن کا نام بھی سہل رضی اللہ عنہ نے لیا تھا ، اپنا آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے کہیں کہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو جوڑ کر منبر تیار کر دے ، تاکہ لوگوں کو وعظ کرنے کے لیے میں اس پر بیٹھ جایا کروں ۔ چنانچہ اس عورت نے اپنے غلام سے غابہ کے جھاؤ کی لکڑی کا منبر بنانے کے لیے کہا ۔ پھر ( جب منبر تیار ہو گیا تو ) انہوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ۔ وہ منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ( مسجد میں ) رکھا گیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2094
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2095
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَجْعَلُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ عَلَيْهِ ، فَإِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا ؟ قَالَ : إِنْ شِئْتِ ، قَالَ : فَعَمِلَتْ لَهُ الْمِنْبَرَ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ الَّذِي صُنِعَ ، فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ عِنْدَهَا ، حَتَّى كَادَتْ تَنْشَقَّ ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ ، فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّتُ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ ، قَالَ : بَكَتْ عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ` ایک انصاری عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز کیوں نہ بنوا دوں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے وقت بیٹھا کریں ۔ کیونکہ میرے پاس ایک غلام بڑھئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تمہاری مرضی ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس نے تیار کیا ۔ تو جمعہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر بیٹھے تو اس کھجور کی لکڑی سے رونے کی آواز آنے لگی ۔ جس پر ٹیک دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خطبہ دیا کرتے تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پھٹ جائے گی ۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا ۔ اس وقت بھی وہ لکڑی اس چھوٹے بچے کی طرح سسکیاں بھر رہی تھی جسے چپ کرانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس کے بعد وہ چپ ہو گئی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ اس کے رونے کی وجہ یہ تھی کہ یہ لکڑی خطبہ سنا کرتی تھی اس لیے روئی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2095
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة