کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: شب قدر کا رمضان کی آخری دس طاق راتوں میں تلاش کرنا۔
حدیث نمبر: Q2017
فِيهِ عُبَادَةُ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اس باب میں عبادہ بن صامت سے روایت ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضل ليلة القدر / حدیث: Q2017
حدیث نمبر: 2017
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوسہیل نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ مالک بن عامر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضل ليلة القدر / حدیث: 2017
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2018
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ ، فَإِذَا كَانَ حِينَ يُمْسِي مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً تَمْضِي ، وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، رَجَعَ إِلَى مَسْكَنِهِ ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ، وَأَنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَأَمَرَهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ ، ثُمَّ قَدْ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ ، وَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، فَابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَابْتَغُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ، فَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَأَمْطَرَتْ ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، فَبَصُرَتْ عَيْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ ، انْصَرَفَ مِنَ الصُّبْحِ ، وَوَجْهُهُ مُمْتَلِئٌ طِينًا وَمَاءً " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن ابی حازم اور عبدالعزیز دراوردی نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ہاد نے ، ان سے محمد بن ابراہیم نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے اس عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے جو مہینے کے بیج میں پڑتا ہے ۔ بیس راتوں کے گزر جانے کے بعد جب اکیسویں تاریخ کی رات آتی تو شام کو آپ گھر واپس آ جاتے ۔ جو لوگ آپ کے ساتھ اعتکاف میں ہوتے وہ بھی اپنے گھروں میں واپس آ جاتے ۔ ایک رمضان میں آپ جب اعتکاف کئے ہوئے تھے تو اس رات میں بھی ( مسجد ہی میں ) مقیم رہے جس میں آپ کی عادت گھر آ جانے کی تھی ، پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو کچھ اللہ پاک نے چاہا ، آپ نے لوگوں کو اس کا حکم دیا ، پھر فرمایا کہ میں اس ( دوسرے ) عشرہ میں اعتکاف کیا کرتا تھا ، لیکن اب مجھ پر یہ ظاہراً ہوا کہ اب اس آخری عشرہ میں مجھے اعتکاف کرنا چاہئے ۔ اس لیے جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے معتکف ہی میں ٹھہرا رہے اور مجھے یہ رات ( شب قدر ) دکھائی گئی لیکن پھر بھلوا دی گئی ۔ اس لیے تم لوگ اسے آخری عشرہ ( کی طاق راتوں ) میں تلاش کرو ۔ میں نے ( خواب میں ) اپنے کو دیکھا کہ اس رات کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ پھر اس رات آسمان پر ابر ہوا اور بارش برسی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ( چھت سے ) پانی ٹپکنے لگا ۔ یہ اکیسویں کی رات کا ذکر ہے ۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد واپس ہو رہے تھے ۔ اور آپ کے چہرہ مبارک پر کیچڑ لگی ہوئی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضل ليلة القدر / حدیث: 2018
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2019
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْتَمِسُوا " .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی ، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( شب قدر کو ) تلاش کرو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضل ليلة القدر / حدیث: 2019
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2020
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، وَيَقُولُ : " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا ہمیں عبدہ بن سلیمان نے خبر دی ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے والد ( عروہ بن زبیر ) نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے اور فرماتے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر کو تلاش کرو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضل ليلة القدر / حدیث: 2020
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2021
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى ، فِي سَابِعَةٍ تَبْقَى ، فِي خَامِسَةٍ تَبْقَى " ، تَابَعَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو ، جب نو راتیں باقی رہ جائیں یا پانچ راتیں باقی رہ جائیں ۔ ( یعنی اکیسوئیں یا تئیسوئیں یا پچیسوئیں راتوں میں شب قدر کو تلاش کرو ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضل ليلة القدر / حدیث: 2021
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2022
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، وَعِكْرِمَةَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، هِيَ فِي تِسْعٍ يَمْضِينَ أَوْ فِي سَبْعٍ يَبْقَيْنَ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ " ، وَعَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : الْتَمِسُوا فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ابومجلز اور عکرمہ نے ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب قدر رمضان کے ( آخری ) عشرہ میں پڑتی ہے ۔ جب نو راتیں گزر جائیں یا سات باقی رہ جائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد شب قدر سے تھی ۔ عبدالوہاب نے ایوب اور خالد سے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ شب قدر کو چوبیس تاریخ ( کی رات ) میں تلاش کرو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضل ليلة القدر / حدیث: 2022
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة