حدیث نمبر: Q130
وَقَالَ مُجَاهِدٌ لاَ يَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ مُسْتَحْىٍ وَلاَ مُسْتَكْبِرٌ ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الأَنْصَارِ لَمْ يَمْنَعْهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ.
مولانا داود راز
مجاہد کہتے ہیں کہ متکبر اور شرمانے والا آدمی علم حاصل نہیں کر سکتا ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے کہ انصار کی عورتیں اچھی عورتیں ہیں کہ شرم انہیں دین میں سمجھ پیدا کرنے سے نہیں روکتی ۔
حدیث نمبر: 130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ ، فَغَطَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ تَعْنِي وَجْهَهَا ، وَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابومعاویہ نے خبر دی ، ان سے ہشام نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ کے واسطے سے نقل کیا ، وہ ( اپنی والدہ ) ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ` ام سلیم ( نامی ایک عورت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا ( اس لیے میں پوچھتی ہوں کہ ) کیا احتلام سے عورت پر بھی غسل ضروری ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( ہاں ) جب عورت پانی دیکھ لے ۔ ( یعنی کپڑے وغیرہ پر منی کا اثر معلوم ہو ) تو ( یہ سن کر ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ( شرم کی وجہ سے ) اپنا چہرہ چھپا لیا اور کہا ، یا رسول اللہ ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں ! تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ، پھر کیوں اس کا بچہ اس کی صورت کے مشابہ ہوتا ہے ( یعنی یہی اس کے احتلام کا ثبوت ہے ) ۔
حدیث نمبر: 131
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَهِيَ مَثَلُ الْمُسْلِمِ ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَادِيَةِ ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَاسْتَحْيَيْتُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ النَّخْلَةُ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَحَدَّثْتُ أَبِي بِمَا وَقَعَ فِي نَفْسِي ، فَقَالَ : لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے مالک نے عبداللہ بن دینار کے واسطے سے بیان کیا ، وہ عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک مرتبہ ) فرمایا کہ` درختوں میں سے ایک درخت ( ایسا ) ہے ۔ جس کے پتے ( کبھی ) نہیں جھڑتے اور اس کی مثال مسلمان جیسی ہے ۔ مجھے بتلاؤ وہ کیا ( درخت ) ہے ؟ تو لوگ جنگلی درختوں ( کی سوچ ) میں پڑ گئے اور میرے دل میں آیا ( کہ میں بتلا دوں ) کہ وہ کھجور ( کا پیڑ ) ہے ، عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر مجھے شرم آ گئی ( اور میں چپ ہی رہا ) تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ہی ( خود ) اس کے بارہ میں بتلائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، وہ کھجور ہے ۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے جی میں جو بات تھی وہ میں نے اپنے والد ( عمر رضی اللہ عنہ ) کو بتلائی ، وہ کہنے لگے کہ اگر تو ( اس وقت ) کہہ دیتا تو میرے لیے ایسے ایسے قیمتی سرمایہ سے زیادہ محبوب ہوتا ۔