کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح میں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 125
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ سُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَرِبِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ ، فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تَسْأَلُوهُ ، لَا يَجِيءُ فِيهِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَنَسْأَلَنَّهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، مَا الرُّوحُ ؟ فَسَكَتَ ، فَقُلْتُ : إِنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ ، فَقُمْتُ ، فَلَمَّا انْجَلَى عَنْهُ ، قَالَ : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 " ، قَالَ الْأَعْمَشُ : هَكَذَا فِي قِرَاءَتِنَا .
مولانا داود راز
´ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا ، ان سے عبدالواحد نے ، ان سے اعمش سلیمان بن مہران نے ابراہیم کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے علقمہ سے نقل کیا ، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ، وہ کہتے ہیں کہ` ( ایک مرتبہ ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی چھڑی پر سہارا دے کر چل رہے تھے ، تو کچھ یہودیوں کا ( ادھر سے ) گزر ہوا ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کے بارے میں کچھ پوچھو ، ان میں سے کسی نے کہا مت پوچھو ، ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار ہو ( مگر ) ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور پوچھیں گے ، پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا ، اے ابوالقاسم ! روح کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی ، میں نے ( دل میں ) کہا کہ آپ پر وحی آ رہی ہے ۔ اس لیے میں کھڑا ہو گیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( وہ کیفیت ) دور ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قرآن کی یہ آیت جو اس وقت نازل ہوئی تھی ) تلاوت فرمائی ’’ ( اے نبی ! ) تم سے یہ لوگ روح کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ۔ کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے ۔ اور تمہیں علم کا بہت تھوڑا حصہ دیا گیا ہے ۔ ‘‘ ( اس لیے تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے ) اعمش کہتے ہیں کہ ہماری قرآت میں «وما اوتوا» ہے ۔ ( « وما اوتيتم » ) نہیں ۔