حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً ، فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ ، قَالَ : وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا ، فَقَالَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عثمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابووائل سے روایت کرتے ہیں ، وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اللہ کی راہ میں لڑائی کی کیا صورت ہے ؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصہ کی وجہ سے اور کوئی غیرت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سر اٹھایا ، اور سر اسی لیے اٹھایا کہ پوچھنے والا کھڑا ہوا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کے کلمے کو سربلند کرنے کے لیے لڑے ، وہ اللہ کی راہ میں ( لڑتا ) ہے ۔