کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بارے میں کہ عالموں کی بات خاموشی سے سننا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ، فَقَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حجاج نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھے علی بن مدرک نے ابوزرعہ سے خبر دی ، وہ جریر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حجۃ الوداع میں فرمایا کہ لوگوں کو بالکل خاموش کر دو ( تاکہ وہ خوب سن لیں ) پھر فرمایا ، لوگو ! میرے بعد پھر کافر مت بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العلم / حدیث: 121
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة