کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بیان میں کہ رات کو تعلیم دینا اور وعظ کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 115
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَة ، وَعَمْرٍو ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ ، وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ ، أَيْقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الْحُجَرِ ، فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا داود راز
´صدقہ نے ہم سے بیان کیا ، انہیں ابن عیینہ نے معمر کے واسطے سے خبر دی ، وہ زہری سے روایت کرتے ہیں ، زہری ہند سے ، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ، ( دوسری سند میں ) عمرو اور یحییٰ بن سعید زہری سے ، وہ ایک عورت سے ، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ` ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں ۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں ( جو ) دنیا میں ( باریک ) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العلم / حدیث: 115
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة