کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: علم کی فضیلت کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 82
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْث ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ فِي أَظْفَارِي ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالُوا : فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الْعِلْمَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے لیث نے ، ان سے عقیل نے ابن شہاب کے واسطے سے نقل کیا ، وہ حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں سو رہا تھا ( اسی حالت میں ) مجھے دودھ کا ایک پیالہ دیا گیا ۔ میں نے ( خوب اچھی طرح ) پی لیا ۔ حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ تازگی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے ۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا ( دودھ ) عمر بن الخطاب کو دے دیا ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العلم / حدیث: 82
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة