حدیث نمبر: 76
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ، وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ ، فَلَمْ يُنْكَرْ ذَلِكَ عَلَيَّ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے مالک نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ` میں ( ایک مرتبہ ) گدھی پر سوار ہو کر چلا ، اس زمانے میں ، میں بلوغ کے قریب تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے سامنے دیوار ( کی آڑ ) نہ تھی ، تو میں بعض صفوں کے سامنے سے گزرا اور گدھی کو چھوڑ دیا ۔ وہ چرنے لگی ، جب کہ میں صف میں شامل ہو گیا ( مگر ) کسی نے مجھے اس بات پر ٹوکا نہیں ۔
حدیث نمبر: 77
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَ : " عَقَلْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجَّةً مَجَّهَا فِي وَجْهِي ، وَأَنَا ابْنُ خَمْسِ سِنِينَ مِنْ دَلْوٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے ابومسہر نے ، ان سے محمد بن حرب نے ، ان سے زبیدی نے زہری کے واسطے سے بیان کیا ، وہ محمود بن الربیع سے نقل کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ` ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول سے منہ میں پانی لے کر میرے چہرے پر کلی فرمائی ، اور میں اس وقت پانچ سال کا تھا ۔