حدیث نمبر: 72
حَدَّثَنَا عَلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا ، قَالَ : " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ ، فَقَالَ : إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الْمُسْلِمِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ : هِيَ النَّخْلَةُ ، فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ النَّخْلَةُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی ( بن مدینی ) نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے ابن ابی نجیح نے مجاہد کے واسطے سے نقل کیا ، وہ کہتے ہیں کہ` میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدینے تک رہا ، میں نے ( اس ) ایک حدیث کے سوا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اور حدیث نہیں سنی ، وہ کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک گابھا لایا گیا ۔ ( اسے دیکھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت ایسا ہے اس کی مثال مسلمان کی طرح ہے ۔ ( ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سن کر ) میں نے ارادہ کیا کہ عرض کروں کہ وہ ( درخت ) کھجور کا ہے مگر چونکہ میں سب میں چھوٹا تھا اس لیے خاموش رہا ۔ ( پھر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور ہے ۔