کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: قرآن مجید میں «نسك» سے مراد بکری ہے۔
حدیث نمبر: 1817
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ ، وَأَنَّهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، وَلَمْ يَتَبَيَّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةٍ ، أَوْ يُهْدِيَ شَاةً ، أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا ہم سے روح نے بیان کیا ، ان سے شبل بن عباد نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا ، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ان جوؤں سے تمہیں تکلیف ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنا سر منڈا لیں ۔ وہ اس وقت حدیبیہ میں تھے ۔ ( صلح حدیبیہ کے سال ) اور کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں رہ جائیں گے بلکہ سب کی خواہش یہ تھی کہ مکہ میں داخل ہوں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ چھ مسکینوں کو ایک فرق ( یعنی تین صاع غلہ ) تقسیم کر دیا جائے یا ایک بکری کی قربانی کرے یا تین دن کے روزے رکھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المحصر / حدیث: 1817
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1818
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ ، مِثْلَهُ .
مولانا داود راز
´اور محمد بن یوسف سے روایت ہے کہ ہم کو ورقاء نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا ، ان سے مجاہد نے بیان کیا ، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبر دی اور انہیں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو جوئیں ان کے چہرہ پر گر رہی تھی ، پھر یہی حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المحصر / حدیث: 1818
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة