کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: امام (حاکم) کی طرف سے زکوٰۃ دینے والے کے حق میں دعائے خیر و برکت کرنا۔
حدیث نمبر: Q1497
وَقَوْلِهِ : خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ سورة التوبة آية 103 .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ التوبہ میں ) ارشاد ہے کہ آپ ان کے مال سے خیرات لیجئے جس کے ذریعہ آپ انہیں پاک کریں ۔ اور ان کا تزکیہ کریں ۔ اور ان کے حق میں خیر و برکت کی دعا کریں ۔ آخر آیت تک ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الزكاة / حدیث: Q1497
حدیث نمبر: 1497
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ ، فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
مولانا داود راز
´ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب کوئی قوم اپنی زکوٰۃ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا فرماتے «اللهم صل على آل فلان» اے اللہ ! آل فلاں کو خیر و برکت عطا فرما ‘ میرے والد بھی اپنی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم صل على آل أبي أوفى» اے اللہ ! آل ابی اوفی کو خیر و برکت عطا فرما ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الزكاة / حدیث: 1497
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة