کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ پاک چوری کے مال میں سے خیرات نہیں قبول کرتا اور وہ صرف پاک کمائی سے قبول کرتا ہے۔
حدیث نمبر: Q1410-2
لِقَوْلِهِ : قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ سورة البقرة آية 263 .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ کیونکہ اللہ پاک کا ارشاد ہے بھلی بات کرنا اور فقیر کی سخت باتوں کو معاف کر دینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے نتیجہ میں ( اس شخص کو جسے صدقہ دیا گیا ہے ) اذیت دی جائے کہ اللہ بڑا بےنیاز نہایت بردبار ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الزكاة / حدیث: Q1410-2