کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: صدقہ میں ریاکاری کرنا۔
حدیث نمبر: Q1410-3
لِقَوْلِهِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالأَذَى إِلَى قَوْلِهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ سورة البقرة آية 264 , وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : صَلْدًا لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ , وَقَالَ عِكْرِمَةُ : وَابِلٌ مَطَرٌ شَدِيدٌ وَالطَّلُّ النَّدَى .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! جو ایمان لا چکے ہو اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور ( جس نے تمہارا صدقہ لیا ہے اسے ) ایذا دے کر برباد نہ کرو جیسے وہ شخص ( اپنے صدقات برباد کر دیتا ہے ) جو لوگوں کو دکھانے کے لیے مال خرچ کرتا ہے اور اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتا ( سے ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ” اور اللہ اپنے منکروں کو ہدایت نہیں کرتا “ ( تک ) ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( قرآن مجید ) میں لفظ «صلدا‏» سے مراد صاف اور چکنی چیز ہے ۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا ( قرآن مجید میں ) لفظ «وابل‏» سے مراد زور کی بارش ہے اور لفظ «الطل» سے مراد شبنم اوس ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الزكاة / حدیث: Q1410-3