فہرستِ ابواب — صحيح البخاري

بَابُ وُجُوبِ الزَّكَاةِ:

باب: زکوٰۃ دینا فرض ہے۔

حدیث 1395–1400

بَابُ الْبَيْعَةِ عَلَى إِيتَاءِ الزَّكَاةِ:

باب: زکوٰۃ دینے پر بیعت کرنا۔

حدیث 1401–1401

بَابُ إِثْمِ مَانِعِ الزَّكَاةِ:

باب: زکوٰۃ نہ ادا کرنے والے کا گناہ۔

حدیث 1402–1403

بَابُ مَا أُدِّيَ زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ:

باب: جس مال کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ کنز (خزانہ) نہیں ہے۔

حدیث 1404–1408

بَابُ إِنْفَاقِ الْمَالِ فِي حَقِّهِ:

باب: اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔

حدیث 1409–1409

بَابُ الرِّيَاءِ فِي الصَّدَقَةِ:

باب: صدقہ میں ریاکاری کرنا۔

حدیث 1410–1410

بَابُ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ وَلاَ يَقْبَلُ إِلاَّ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ:

باب: اللہ پاک چوری کے مال میں سے خیرات نہیں قبول کرتا اور وہ صرف پاک کمائی سے قبول کرتا ہے۔

حدیث 1410–1410

بَابُ الصَّدَقَةِ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ:

باب: حلال کمائی میں سے خیرات کرنا۔

حدیث 1410–1410

بَابُ الصَّدَقَةِ قَبْلَ الرَّدِّ:

باب: صدقہ اس زمانے سے پہلے کہ اس کا لینے والا کوئی باقی نہ رہے گا۔

حدیث 1411–1414

بَابُ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ:

باب: اس بارے میں کہ جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے یا کسی معمولی سے صدقہ کے ذریعے ہو۔

حدیث 1415–1418

بَابُ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ:

باب: تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت۔

حدیث 1419–1419

بَابٌ:

باب:۔۔۔

حدیث 1420–1420

بَابُ صَدَقَةِ الْعَلاَنِيَةِ:

باب: سب کے سامنے صدقہ کرنا جائز ہے۔

حدیث 1421–1421

بَابُ صَدَقَةِ السِّرِّ:

باب: چھپ کر خیرات کرنا افضل ہے۔

حدیث 1421–1421

بَابُ إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى غَنِيٍّ وَهُوَ لاَ يَعْلَمُ:

باب: اگر لاعلمی میں کسی نے مالدار کو صدقہ دے دیا (تو اس کو ثواب مل جائے گا)۔

حدیث 1421–1421

بَابُ إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهِ وَهُوَ لاَ يَشْعُرُ:

باب: اگر باپ ناواقفی سے اپنے بیٹے کو خیرات دیدے کہ اس کو معلوم نہ ہو؟

حدیث 1422–1422

بَابُ الصَّدَقَةِ بِالْيَمِينِ:

باب: خیرات داہنے ہاتھ سے دینی بہتر ہے۔

حدیث 1423–1424

بَابُ مَنْ أَمَرَ خَادِمَهُ بِالصَّدَقَةِ وَلَمْ يُنَاوِلْ بِنَفْسِهِ:

باب: اس کے بارے میں کہ جس نے اپنے خدمت گار کو صدقہ دینے کا حکم دیا اور خود اپنے ہاتھ سے نہیں دیا۔

حدیث 1425–1425

بَابُ لاَ صَدَقَةَ إِلاَّ عَنْ ظَهْرِ غِنًى:

باب: صدقہ وہی بہتر ہے جس کے بعد بھی آدمی مالدار ہی رہ جائے (بالکل خالی ہاتھ نہ ہو بیٹھے)۔

حدیث 1426–1429

بَابُ الْمَنَّانِ بِمَا أَعْطَى:

باب: جو دے کر احسان جتائے اس کی مذمت۔

حدیث 1430–1430

بَابُ مَنْ أَحَبَّ تَعْجِيلَ الصَّدَقَةِ مِنْ يَوْمِهَا:

باب: خیرات کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔

حدیث 1430–1430

بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَالشَّفَاعَةِ فِيهَا:

باب: لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا۔

حدیث 1431–1434

بَابُ الصَّدَقَةِ فِيمَا اسْتَطَاعَ:

باب: جہاں تک ہو سکے خیرات کرنا۔

حدیث 1434–1434

بَابُ الصَّدَقَةُ تُكَفِّرُ الْخَطِيئَةَ:

باب: صدقہ خیرات سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

حدیث 1435–1435

بَابُ مَنْ تَصَدَّقَ فِي الشِّرْكِ ثُمَّ أَسْلَمَ:

باب: اس بارے میں کہ جس نے شرک کی حالت میں صدقہ دیا اور پھر اسلام لے آیا۔

حدیث 1436–1436

بَابُ أَجْرِ الْخَادِمِ إِذَا تَصَدَّقَ بِأَمْرِ صَاحِبِهِ غَيْرَ مُفْسِدٍ:

باب: خادم نوکر کا ثواب، جب وہ مالک کے حکم کے مطابق خیرات دے اور کوئی بگاڑ کی نیت نہ ہو۔

حدیث 1437–1438

بَابُ أَجْرِ الْمَرْأَةِ إِذَا تَصَدَّقَتْ أَوْ أَطْعَمَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ:

باب: عورت کا ثواب جب وہ اپنے شوہر کی چیز میں سے صدقہ دے یا کسی کو کھلائے اور ارادہ گھر بگاڑنے کا نہ ہو۔

حدیث 1439–1441

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} :

باب: (سورۃ واللیل میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس نے (اللہ کے راستے میں) دیا اور اس کا خوف اختیار کیا اور اچھائیوں کی (یعنی اسلام کی) تصدیق کی تو ہم اس کے لیے آسانی کی جگہ یعنی جنت آسان کر دیں گے۔ لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروائی برتی اور اچھائیوں (یعنی اسلام کو) جھٹلایا تو اسے ہم دشواریوں میں (یعنی دوزخ میں) پھنسا دیں گے۔

حدیث 1442–1442

بَابُ مَثَلِ الْمُتَصَدِّقِ وَالْبَخِيلِ:

باب: صدقہ دینے والے کی اور بخیل کی مثال کا بیان۔

حدیث 1443–1444

بَابُ صَدَقَةِ الْكَسْبِ وَالتِّجَارَةِ:

باب: محنت اور سوداگری کے مال میں سے خیرات کرنا ثواب ہے۔

حدیث 1445–1445

بَابُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَعْمَلْ بِالْمَعْرُوفِ:

باب: ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے اگر (کوئی چیز دینے کے لیے) نہ ہو تو اس کے لیے اچھی بات پر عمل کرنا یا اچھی بات دوسرے کو بتلا دینا بھی خیرات ہے۔

حدیث 1445–1445

بَابُ قَدْرُ كَمْ يُعْطَى مِنَ الزَّكَاةِ وَالصَّدَقَةِ وَمَنْ أَعْطَى شَاةً:

باب: زکوٰۃ یا صدقہ میں کتنا مال دینا درست ہے اور اگر کسی نے ایک پوری بکری دے دی؟

حدیث 1446–1446

بَابُ زَكَاةِ الْوَرِقِ:

باب: چاندی کی زکوٰۃ کا بیان۔

حدیث 1447–1448

بَابُ الْعَرْضِ فِي الزَّكَاةِ:

باب: زکوٰۃ میں (چاندی سونے کے سوا اور) اسباب کا لینا۔

حدیث 1448–1449

بَابُ لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ:

باب: زکوٰۃ لیتے وقت جو مال جدا جدا ہوں وہ اکٹھے نہ کئے جائیں اور جو اکٹھے ہوں وہ جدا جدا نہ کیے جائیں۔

حدیث 1450–1450

بَابُ مَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ:

باب: اگر دو آدمی ساجھی ہوں تو زکوٰۃ کا خرچہ حساب سے برابر برابر ایک دوسرے سے لین دین کر لیں۔

حدیث 1451–1451

بَابُ زَكَاةِ الإِبِلِ:

باب: اونٹوں کی زکوٰۃ کا بیان۔

حدیث 1452–1452

بَابُ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ:

باب: جس کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ زکوٰۃ میں ایک برس کی اونٹنی دینا ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو۔

حدیث 1453–1453

بَابُ زَكَاةِ الْغَنَمِ:

باب: بکریوں کی زکوٰۃ کا بیان۔

حدیث 1454–1454

بَابُ لاَ تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ وَلاَ تَيْسٌ إِلاَّ مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ:

باب: زکوٰۃ میں بوڑھا یا عیب دار یا نر جانور نہ لیا جائے گا مگر جب زکوٰۃ وصول کرنے والا مناسب سمجھے تو لے سکتا ہے۔

حدیث 1455–1455

بَابُ أَخْذِ الْعَنَاقِ فِي الصَّدَقَةِ:

باب: بکری کا بچہ زکوٰۃ میں لینا۔

حدیث 1456–1457

بَابُ لاَ تُؤْخَذُ كَرَائِمُ أَمْوَالِ النَّاسِ فِي الصَّدَقَةِ:

باب: زکوٰۃ میں لوگوں کے عمدہ اور چھٹے ہوئے مال نہ لیے جائیں گے۔

حدیث 1458–1458

بَابُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ:

باب: پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔

حدیث 1459–1459

بَابُ زَكَاةِ الْبَقَرِ:

باب: گائے بیل کی زکوٰۃ کا بیان۔

حدیث 1460–1460

بَابُ الزَّكَاةِ عَلَى الأَقَارِبِ:

باب: اپنے رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا۔

حدیث 1461–1462

بَابُ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ:

باب: مسلمان پر اس کے گھوڑوں کی زکوٰۃ دینا ضروری نہیں ہے۔

حدیث 1463–1463

بَابُ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ صَدَقَةٌ:

باب: مسلمان کو اپنے غلام (لونڈی) کی زکوٰۃ دینی ضروری نہیں ہے۔

حدیث 1464–1464

بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى الْيَتَامَى:

باب: یتیموں پر صدقہ کرنا بڑا ثواب ہے۔

حدیث 1465–1465

بَابُ الزَّكَاةِ عَلَى الزَّوْجِ وَالأَيْتَامِ فِي الْحَجْرِ:

باب: عورت کا خود اپنے شوہر کو یا اپنی زیر تربیت یتیم بچوں کو زکوٰۃ دینا۔

حدیث 1466–1467

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَفِي الرِّقَابِ} ، {وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ} :

باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان (زکوٰۃ کے مصارف بیان کرتے ہوئے کہ زکوٰۃ) غلام آزاد کرانے میں، مقروضوں کے قرض ادا کرنے میں اور اللہ کے راستے میں خرچ کی جائے۔

حدیث 1468–1468

بَابُ الاِسْتِعْفَافِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ:

باب: سوال سے بچنے کا بیان۔

حدیث 1469–1472

بَابُ مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلاَ إِشْرَافِ نَفْسٍ:

باب: اگر اللہ پاک کسی کو بن مانگے اور بن دل لگائے اور امیدوار رہے کوئی چیز دلا دے (تو اس کو لے لے)۔

حدیث 1473–1473

بَابُ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ تَكَثُّرًا:

باب: اگر کوئی شخص اپنی دولت بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرے؟

حدیث 1474–1475

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا} وَكَمِ الْغِنَى:

باب: (سورۃ البقرہ میں) اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”جو لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے“ اور کتنے مال سے آدمی مالدار کہلاتا ہے۔

حدیث 1476–1480

بَابُ خَرْصِ التَّمْرِ:

باب: کھجور کا درختوں پر اندازہ کر لینا درست ہے۔

حدیث 1481–1482

بَابُ الْعُشْرِ فِيمَا يُسْقَى مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ وَبِالْمَاءِ الْجَارِي:

باب: اس زمین کی پیداوار سے دسواں حصہ لینا ہو گا جس کی سیرابی بارش یا جاری (نہر ‘ دریا وغیرہ) پانی سے ہوئی ہو۔

حدیث 1483–1483

بَابُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ:

باب: پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔

حدیث 1484–1484

بَابُ أَخْذِ صَدَقَةِ التَّمْرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ، وَهَلْ يُتْرَكُ الصَّبِيُّ فَيَمَسُّ تَمْرَ الصَّدَقَةِ؟

باب: کھجور کے پھل توڑنے کے وقت زکوٰۃ لی جائے اور زکوٰۃ کی کھجور کو بچے کا ہاتھ لگانا یا اس میں سے کچھ کھا لینا۔

حدیث 1485–1485

بَابُ مَنْ بَاعَ ثِمَارَهُ أَوْ نَخْلَهُ أَوْ أَرْضَهُ أَوْ زَرْعَهُ، وَقَدْ وَجَبَ فِيهِ الْعُشْرُ أَوِ الصَّدَقَةُ فَأَدَّى الزَّكَاةَ مِنْ غَيْرِهِ أَوْ بَاعَ ثِمَارَهُ وَلَمْ تَجِبْ فِيهِ الصَّدَقَةُ:

باب: جو شخص اپنا میوہ یا کھجور کا درخت یا کھیت بیچ ڈالے حالانکہ اس میں دسواں حصہ یا زکوٰۃ واجب ہو چکی ہو اب وہ اپنے دوسرے مال سے یہ زکوٰۃ ادا کرے تو یہ درست ہے یا وہ میوہ بیچے جس میں صدقہ واجب ہی نہ ہوا ہو۔

حدیث 1486–1488

بَابُ هَلْ يَشْتَرِي صَدَقَتَهُ:

باب: کیا آدمی اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے؟

حدیث 1489–1490

بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الصَّدَقَةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر صدقہ کا حرام ہونا۔

حدیث 1491–1491

بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى مَوَالِي أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی لونڈیوں اور غلاموں کو صدقہ دینا درست ہے۔

حدیث 1492–1493

بَابُ إِذَا تَحَوَّلَتِ الصَّدَقَةُ:

باب: جب صدقہ محتاج کی ملکیت ہو جائے۔

حدیث 1494–1495

بَابُ أَخْذِ الصَّدَقَةِ مِنَ الأَغْنِيَاءِ وَتُرَدَّ فِي الْفُقَرَاءِ حَيْثُ كَانُوا:

باب: مالداروں سے زکوٰۃ وصول کی جائے اور فقراء پر خرچ کر دی جائے خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔

حدیث 1496–1496

بَابُ صَلاَةِ الإِمَامِ وَدُعَائِهِ لِصَاحِبِ الصَّدَقَةِ:

باب: امام (حاکم) کی طرف سے زکوٰۃ دینے والے کے حق میں دعائے خیر و برکت کرنا۔

حدیث 1497–1497

بَابُ مَا يُسْتَخْرَجُ مِنَ الْبَحْرِ:

باب: جو مال سمندر سے نکالا جائے۔

حدیث 1498–1498

بَابٌ في الرِّكَازِ الْخُمُسُ:

باب: رکاز میں پانچواں حصہ واجب ہے۔

حدیث 1499–1499

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا} وَمُحَاسَبَةِ الْمُصَدِّقِينَ مَعَ الإِمَامِ:

باب: اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں فرمایا زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو بھی زکوٰۃ سے دیا جائے گا۔

حدیث 1500–1500

بَابُ اسْتِعْمَالِ إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَأَلْبَانِهَا لأَبْنَاءِ السَّبِيلِ:

باب: زکوٰۃ کے اونٹوں سے مسافر لوگ کام لے سکتے ہیں اور ان کا دودھ پی سکتے ہیں۔

حدیث 1501–1501

بَابُ وَسْمِ الإِمَامِ إِبِلَ الصَّدَقَةِ بِيَدِهِ:

باب: زکوٰۃ کے اونٹوں پر حاکم کا اپنے ہاتھ سے داغ دینا۔

حدیث 1502–1502

بَابُ فَرْضِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ:

باب: صدقہ فطر کا فرض ہونا۔

حدیث 1503–1503

بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ عَلَى الْعَبْدِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ:

باب: صدقہ فطر کا مسلمانوں پر یہاں تک کہ غلام لونڈی پر بھی فرض ہونا۔

حدیث 1504–1504

بَابُ صَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ:

باب: صدقہ فطر میں اگر جَو دے تو ایک صاع ادا کرے۔

حدیث 1505–1505

بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ:

باب: گیہوں یا دوسرا اناج بھی صدقہ فطر میں ایک صاع ہونا چاہیے۔

حدیث 1506–1506

بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ:

باب: صدقہ فطر میں کھجور بھی ایک صاع نکالی جائے۔

حدیث 1507–1507

بَابُ صَاعٍ مِنْ زَبِيبٍ:

باب: صدقہ فطر میں منقیٰ بھی ایک صاع دینا چاہیے۔

حدیث 1508–1508

بَابُ الصَّدَقَةِ قَبْلَ الْعِيدِ:

باب: صدقہ فطر نماز عید سے پہلے ادا کرنا۔

حدیث 1509–1510

بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ عَلَى الْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ:

باب: صدقہ فطر آزاد اور غلام پر واجب ہونا۔

حدیث 1511–1511

بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِير

باب: صدقہ فطر بڑوں اور چھوٹوں پر واجب ہے۔

حدیث 1512–1512

اس باب کی تمام احادیث