حدیث نمبر: Q1221
وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي لَأُجَهِّزُ جَيْشِي وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ .
مولانا داود راز
´اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` میں نماز پڑھتا رہتا ہوں اور نماز ہی میں جہاد کے لیے اپنی فوج کا سامان کیا کرتا ہوں ۔
حدیث نمبر: 1221
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا دَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ , فَقَالَ : ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا ، فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے روح بن عبادہ نے ، کہا کہ ہم سے عمر نے جو سعید کے بیٹے ہیں ، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے ہی بڑی تیزی سے اٹھے اور اپنی ایک بیوی کے حجرہ میں تشریف لے گئے ، پھر باہر تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جلدی پر اس تعجب و حیرت کو محسوس کیا جو صحابہ کے چہروں سے ظاہر ہو رہا تھا ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں مجھے سونے کا ایک ڈلا یاد آ گیا جو ہمارے پاس تقسیم سے باقی رہ گیا تھا ۔ مجھے برا معلوم ہوا کہ ہمارے پاس وہ شام تک یا رات تک رہ جائے ۔ اس لیے میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا ۔
حدیث نمبر: 1222
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْأَعْرَجِ , قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُذِّنَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ أَدْبَرَ ، فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ فَلَا يَزَالُ بِالْمَرْءِ يَقُولُ لَهُ اذْكُرْ مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى " ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ ، وَسَمِعَهُ أَبُو سَلَمَةَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے ، ان سے جعفر بن ربیعہ نے اور ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کر ریاح خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے ۔ جب مؤذن چپ ہو جاتا ہے تو مردود پھر آ جاتا ہے اور جب جماعت کھڑی ہونے لگتی ہے ( اور تکبیر کہی جاتی ہے ) تو پھر بھاگ جاتا ہے ۔ لیکن جب مؤذن چپ ہو جاتا ہے تو پھر آ جاتا ہے ۔ اور آدمی کے دل میں وسواس پیدا کرتا رہتا ہے ۔ کہتا ہے کہ ( فلاں فلاں بات ) یاد کر ۔ کم بخت وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس نمازی کے ذہن میں بھی نہ تھیں ۔ اس طرح نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ جب کوئی یہ بھول جائے ( کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ) تو بیٹھے بیٹھے ( سہو کے ) دو سجدے کر لے ۔ ابوسلمہ نے یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا تھا ۔
حدیث نمبر: 1223
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَقُولُ النَّاسُ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَلَقِيتُ رَجُلًا , فَقُلْتُ : " بِمَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَارِحَةَ فِي الْعَتَمَةِ ؟ فَقَالَ : لَا أَدْرِي ، فَقُلْتُ : لَمْ تَشْهَدْهَا ؟ قَالَ : بَلَى ، قُلْتُ : لَكِنْ أَنَا أَدْرِي ، قَرَأَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے کہا کہ مجھے ابن ابی ذئب نے خبر دی ، انہیں سعید مقبری نے کہ` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتا ہے ( اور حال یہ ہے کہ ) میں ایک شخص سے ایک مرتبہ ملا اور اس سے میں نے ( بطور امتحان ) دریافت کیا کہ گزشتہ رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں کون کون سی سورتیں پڑھی تھیں ؟ اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم ۔ میں نے پوچھا کہ تم نماز میں شریک تھے ؟ کہا کہ ہاں شریک تھا ۔ میں نے کہا لیکن مجھے تو یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں سورتیں پڑھی تھیں ۔