کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: تالی بجانا یعنی ہاتھ پر ہاتھ مارنا صرف عورتوں کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 1203
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ( نماز میں اگر کوئی بات پیش آ جائے تو ) مردوں کو سبحان اللہ کہنا اور عورتوں کو ہاتھ پر ہاتھ مارنا چاہیے ۔ ( یعنی تالی بجا کر امام کو اطلاع دینی چاہیے ۔ ( نوٹ : تالی سیدھے ہاتھوں سے نہیں بلکہ سیدھے ہاتھ کو الٹے ہاتھ پر مار کر ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العمل في الصلاة / حدیث: 1203
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1204
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "التَّسْبِيحُ للرِّجَالِ وَالتَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بلخی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو وکیع نے خبر دی ، انہیں سفیان ثوری نے ، انہیں ابوحازم سلمہ بن دینار نے اور انہیں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العمل في الصلاة / حدیث: 1204
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة