کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: نماز میں بات کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1199
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا وَقَالَ : إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ( پہلے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور ہم سلام کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب دیتے تھے ۔ جب ہم نجاشی کے یہاں سے واپس ہوئے تو ہم نے ( پہلے کی طرح نماز ہی میں ) سلام کیا ۔ لیکن اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا بلکہ نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ نماز میں آدمی کو فرصت کہاں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العمل في الصلاة / حدیث: 1199
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: Q1200
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، ان سے ہریم بن سفیان نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے پھر ایسی ہی روایت بیان کی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العمل في الصلاة / حدیث: Q1200
حدیث نمبر: 1200
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ يُونُسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ , قَالَ : قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ : " إِنْ كُنَّا لَنَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ بِحَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ سورة البقرة آية 238 ، فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے ، انہیں حارث بن شبیل نے ، انہیں ابوعمرو بن سعد بن ابی ایاس شیبانی نے بتایا کہ مجھ سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں نماز پڑھنے میں باتیں کر لیا کرتے تھے ۔ کوئی بھی اپنے قریب کے نمازی سے اپنی ضرورت بیان کر دیتا ۔ پھر آیت «حافظوا على الصلوات‏ الخ» اتری اور ہمیں ( نماز میں ) خاموش رہنے کا حکم ہوا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العمل في الصلاة / حدیث: 1200
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة