کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: مسجد قباء کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1191
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " كَانَ لَا يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى إِلَّا فِي يَوْمَيْنِ يَوْمَ يَقْدَمُ بِمَكَّةَ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَقْدَمُهَا ضُحًى فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ ، وَيَوْمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَرِهَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهِ ، قَالَ : وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهُ رَاكِبًا وَمَاشِيًا .
مولانا داود راز
´ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہمیں ایوب سختیانی نے خبر دی اور انہیں نافع نے کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چاشت کی نماز صرف دو دن پڑھتے تھے ۔ جب مکہ آتے کیونکہ آپ مکہ میں چاشت ہی کے وقت آتے تھے اس وقت پہلے آپ طواف کرتے اور پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھتے ۔ دوسرے جس دن آپ مسجد قباء میں تشریف لاتے آپ کا یہاں ہر ہفتہ کو آنے کا معمول تھا ۔ جب آپ مسجد کے اندر آتے تو نماز پڑھے بغیر باہر نکلنا برا جانتے ۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سوار اور پیدل دونوں طرح آیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضل الصلاة / حدیث: 1191
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1192
قَالَ : وَكَانَ يَقُولُ : إِنَّمَا أَصْنَعُ كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يَصْنَعُونَ ، وَلَا أَمْنَعُ أَحَدًا أَنْ يُصَلِّيَ فِي أَيِّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ ، غَيْرَ أَنْ لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا " .
مولانا داود راز
´نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ` میں اسی طرح کرتا ہوں جیسے میں نے اپنے ساتھیوں ( صحابہ رضی اللہ عنہم ) کو کرتے دیکھا ہے ۔ لیکن تمہیں رات یا دن کے کسی حصے میں نماز پڑھنے سے نہیں روکتا ۔ صرف اتنی بات ہے کہ قصد کر کے تم سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت نہ پڑھو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضل الصلاة / حدیث: 1192
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة