کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بیان میں کہ دین آسان ہے۔
حدیث نمبر: Q39
وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ».
مولانا داود راز
‏‏‏‏ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ وہ دین پسند ہے جو سیدھا اور سچا ہو ۔ ( اور یقیناً وہ دین اسلام ہے سچ ہے «إن الدين عند الله الإسلام» ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الإيمان / حدیث: Q39
حدیث نمبر: 39
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عمر بن علی نے معن بن محمد غفاری سے خبر دی، وہ سعید بن ابوسعید مقبری سے، وہ ابوہریرہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا (اور اس کی سختی نہ چل سکے گی) پس (اس لیے) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ (کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے) اور صبح اور شام اور کسی قدر رات میں (عبادت سے) مدد حاصل کرو۔ (نماز پنج وقتہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ پابندی سے ادا کرو۔)
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الإيمان / حدیث: 39
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة