کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: گناہ جاہلیت کے کام ہیں۔
حدیث نمبر: Q30
وَلاَ يُكَفَّرُ صَاحِبُهَا بِارْتِكَابِهَا إِلَّا بِالشِّرْكِ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ ، وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ سورة النساء آية 48 . وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا سورة الحجرات - آية 9
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور گناہ کرنے والا گناہ سے کافر نہیں ہوتا ۔ ہاں اگر شرک کرے تو کافر ہو جائے گا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک شخص سے) فرمایا تھا تو ایسا آدمی ہے جس میں جاہلیت کی بو آتی ہے ۔ ( اس برائی کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کافر نہیں کہا ) اور اللہ نے سورۃ نساء میں فرمایا ہے بیشک اللہ شرک کو نہیں بخشے گا اور اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے وہ بخش دے ۔ ( سورۃ الحجرات میں فرمایا ) اور اگر ایمانداروں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو ( اس آیت میں اللہ نے اس گناہ کبیرہ قتل و غارت کے باوجود ان لڑنے والوں کو مومن ہی کہا ہے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الإيمان / حدیث: Q30
حدیث نمبر: 30
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَيُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قُلْتُ : أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ ، قَالَ : ارْجِعْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ قَالَ : إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن مبارک نے ، کہا ہم سے بیان کیا حماد بن زید نے ، کہا ہم سے بیان کیا ایوب اور یونس نے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے احنف بن قیس سے ، کہا کہ` میں اس شخص ( علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو چلا ۔ راستے میں مجھ کو ابوبکرہ ملے ۔ پوچھا کہاں جاتے ہو ؟ میں نے کہا ، اس شخص ( علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو جاتا ہوں ۔ ابوبکرہ نے کہا اپنے گھر کو لوٹ جاؤ ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قاتل تو خیر ( ضرور دوزخی ہونا چاہیے ) مقتول کیوں ؟ فرمایا ’’ وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی حرص رکھتا تھا ۔ ‘‘ ( موقع پاتا تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتا دل کے عزم صمیم پر وہ دوزخی ہوا ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الإيمان / حدیث: 30
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة