کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سلام پھیلانا بھی اسلام میں داخل ہے۔
حدیث نمبر: Q28
وَقَالَ عَمَّارٌ : ثَلَاثٌ مَنْ جَمَعَهُنَّ ، فَقَدْ جَمَعَ الْإِيمَانَ الْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ ، وَبَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ وَالْإِنْفَاقُ مِنَ الْإِقْتَارِ ‏‏.‏
مولانا داود راز
‏‏‏‏ عمار نے کہا کہ جس نے تین چیزوں کو جمع کر لیا اس نے سارا ایمان حاصل کر لیا ۔ اپنے نفس سے انصاف کرنا ، سلام کو عالم میں پھیلانا اور تنگ دستی کے باوجود اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الإيمان / حدیث: Q28
حدیث نمبر: 28
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " تُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے ابوالخیر سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہ` ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا اسلام بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کھانا کھلائے اور ہر شخص کو سلام کرے خواہ اس کو تو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الإيمان / حدیث: 28
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة