کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس شخص کے قول کی تصدیق میں جس نے کہا ہے کہ ایمان عمل (کا نام) ہے۔
حدیث نمبر: Q26
لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : {وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}. وَقَالَ عِدَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : {فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ} عَنْ قَوْلِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. وَقَالَ : {لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ}.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «وتلك الجنة التي أورثتموها بما كنتم تعملون‏» ” اور یہ جنت ہے اپنے عمل کے بدلے میں تم جس کے مالک ہوئے ہو ۔ “ اور بہت سے اہل علم حضرات ارشاد باری تعالیٰ «فوربك لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون‏» الخ کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ یہاں عمل سے مراد «لا إله إلا الله» کہنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” عمل کرنے والوں کو اسی جیسا عمل کرنا چاہئے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الإيمان / حدیث: Q26
حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : حَجٌّ مَبْرُورٌ " .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل دونوں نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، وہ سعید بن المسیب سے روایت کرتے ہیں ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا “ کہا گیا ، اس کے بعد کون سا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا “ کہا گیا ، پھر کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حج مبرور ۔‏‏‏‏“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الإيمان / حدیث: 26
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة