کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: صبح کی نماز پڑھ کر عورتوں کا جلدی سے چلا جانا اور مسجد میں کم ٹھہرنا۔
حدیث نمبر: 872
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعيدُ بْنُ مَنْصًورٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، " أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ، فَيَنْصَرِفْنَ نِسَاءُ الْمُؤْمِنِينَ ، لَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ أَوْ لَا يَعْرِفُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے بیان کیا ، ان سے اس کے باپ ( قاسم بن محمد بن ابی بکر ) نے ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز منہ اندھیرے پڑھتے تھے ۔ مسلمانوں کی عورتیں جب ( نماز پڑھ کر ) واپس ہوتیں تو اندھیرے کی وجہ سے ان کی پہچان نہ ہوتی یا وہ ایک دوسری کو نہ پہچان سکتیں ۔